Original Poem
ہوا میرا ریشا امید وہ نخل سر سبز جس کی ہر شاخ میں ہو پھول اور ہر اک پھول میں پھل
Translation (Urdu)
میری امید کا درخت وہ ہرا بھرا درخت ہے
جس کی ہر ٹہنی میں پھول ہو اور ہر پھول میں میوہ
About the Poet
Unknown (Modern Urdu Poetry)
یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے۔ اردو شاعری کی روایت میں یہ شعر جدید دور کی شاعری کی مثال ہے۔
Read more on Wikipedia →Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- Modern Era
- Background
- یہ شعر امید اور ترقی کی علامت کے طور پر لکھا گیا ہے، جہاں ہر شاخ اور پھول میں ترقی کی علامت موجود ہے۔
Sources: https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry
Detailed Explanation
یہ شعر امید اور ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے خیالات کو ایک درخت کی شکل میں پیش کرتا ہے جو سر سبز ہے اور اس کی ہر شاخ پر پھول اور ہر پھول میں پھل ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو زندگی کی ترقی اور خوشحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اگر امید کا درخت مضبوط ہو تو زندگی میں ہر جگہ خوشحالی اور ترقی ممکن ہے۔ یہ شعر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں امید کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ ہم ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکیں۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| ریشا | تار | پتلا دھاگہ یا تار | reeshaa |
| نخل | درخت | پودا یا درخت | nakhul |
| سر سبز | ہرا بھرا | سبز اور شاداب | sar sabz |
| شاخ | ٹہنی | درخت کی ٹہنی | shaakh |
| پھول | گل | پھول | phool |
| پھل | میوہ | پھل | phal |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free