🇵🇰

جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور by ادا جعفری — Analysis & Translation

Original Poem

جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں

Translation (Urdu)

جو لوگ سخت دھوپ کو ہنس کر سہہ گئے وہی لوگ ٹھنڈی رات کی چھاؤں میں تکلیف میں رہے

About the Poet

ادا جعفری (20th century)

ادا جعفری اردو کی معروف شاعرہ تھیں جو اپنی منفرد شاعری کے لئے جانی جاتی ہیں۔ ان کی شاعری میں خواتین کے جذبات اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
20th century
Background
یہ نظم انسانی جدوجہد اور مشکلات کے باوجود امید اور استقامت کی عکاسی کرتی ہے۔

Sources: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/یہ-فخر-تو-حاصل-ہے-برے-ہیں-کہ-بھلے-ہیں-ادا-جعفری.14066/, https://www.sadpoetry.org/ur/p/yeh-fakhr-to-haasil-hai-buray-hain-ke-bhallay-hain/

Detailed Explanation

ادا جعفری کی یہ نظم انسانی زندگی کی مشکلات اور ان کے مقابلے میں انسان کی استقامت کو بیان کرتی ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعرہ ان لوگوں کی تعریف کرتی ہیں جو زندگی کی سختیوں کو ہنس کر برداشت کرتے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہی لوگ جو دن کی سختیوں کو جھیل لیتے ہیں، رات کی ٹھنڈی چھاؤں میں بھی جل جاتے ہیں۔ یہ نظم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگ ہی اصل میں کامیاب ہوتے ہیں، لیکن ان کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی۔

Themes

  • استقامت
  • مشکلات کا سامنا

Literary Devices

  • metaphor: دھوپ اور چھاؤں کو زندگی کی مشکلات اور آرام کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے
  • imagery: شاعرہ نے دھوپ اور چھاؤں کی تصویریں کھینچ کر انسانی جدوجہد کو بیان کیا ہے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
جھیل برداشت سہنا jheel
کڑی سخت بہت زیادہ گرم یا مشکل karrhi
تیور رویہ کسی چیز کا انداز یا حالت tevar
خنک ٹھنڈی ٹھنڈک والی khunnak
چھاؤں سایہ درخت یا کسی چیز کا سایہ chhaaon
جلے جل گئے تکلیف میں ہونا jalay

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free