🇵🇰

کہا میں نے کتنا ہے گل کو ثبات by میر تقی میر — Analysis & Translation

Original Poem

کہا میں نے کتنا ہے گل کو ثبات کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

Translation (Urdu)

میں نے پوچھا کہ پھول کتنی دیر تک تازہ رہتا ہے کلی نے یہ سن کر ہنس دیا

About the Poet

میر تقی میر (18th century)

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر تھے جن کا تعلق 18ویں صدی سے تھا۔ ان کی شاعری میں سادگی اور خلوص کا عنصر نمایاں ہے۔

Read more on Wikipedia →

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
18th century
Background
یہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جو انسانی جذبات اور فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔

Sources: https://www.rekhta.org/couplets/kahaa-main-ne-gul-kaa-hai-kitnaa-sabaat-meer-taqi-meer-couplets?lang=ur, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

یہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا ایک خوبصورت نمونہ ہے جس میں انہوں نے پھول کی ناپائیداری اور کلی کی مسکراہٹ کے ذریعے زندگی کی عارضی نوعیت کو بیان کیا ہے۔ شاعر نے پھول کی پائیداری پر سوال اٹھایا ہے، جس کے جواب میں کلی مسکراتی ہے۔ یہ مسکراہٹ ایک طرح سے زندگی کی حقیقت کو قبول کرنے کا اشارہ ہے۔ میر کی شاعری میں اکثر فطرت کے عناصر کو انسانی جذبات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے، اور اس شعر میں بھی یہی انداز نظر آتا ہے۔ کلی کی مسکراہٹ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کی خوبصورتی اور ناپائیداری کو قبول کرنا ہی اصل حکمت ہے۔

Themes

  • فطرت کی عارضی نوعیت
  • زندگی کی حقیقت

Literary Devices

  • metaphor: پھول اور کلی کا استعمال انسانی جذبات کی عکاسی کے لیے کیا گیا ہے
  • imagery: پھول کی پائیداری اور کلی کی مسکراہٹ کا منظر پیش کیا گیا ہے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
ثبات پائیداری کسی چیز کی مستقل مزاجی یا دیرپا ہونا sabaat
تبسم مسکراہٹ ہلکی سی مسکراہٹ یا ہنسی tabassum
کلی پھول کی کلی پھول کا بند حصہ kali

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free