🇵🇰

جس سر کو غرور آج ہے یا تاج واری کا by میر تقی میر — Analysis & Translation

Original Poem

جس سر کو غرور آج ہے یا تاج واری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحا گری کا

Translation (Urdu)

وہ سر جو آج بادشاہی پر فخر کر رہا ہے کل اسی پر یہاں غم کا شور ہوگا

About the Poet

میر تقی میر (18th century)

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق 18ویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور دنیا کی بے ثباتی کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔ میر کو اردو غزل کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔

Read more on Wikipedia →

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
18th century
Background
یہ شعر انسانی غرور اور دنیا کی بے ثباتی کے موضوع پر ہے۔ میر تقی میر نے اس شعر میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ جو انسان آج اپنے تاج و تخت پر غرور کر رہا ہے، کل اس کی موت پر نوحہ گری ہوگی۔ یہ شعر دنیا کی ناپائیداری اور انسانی غرور کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔

Sources: https://urdunotes.com/lesson/جس-سر-کو-غرور-آج-ہے-یاں-تاج-وری-کا-تشریح/, https://www.rekhta.org/miiriyaat/jis-sar-ko-guruur-aaj-hai-yaan-taaj-varii-kaa-meer-taqi-meer-miiriyaat?lang=ur, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

یہ شعر میر تقی میر کا ہے جس میں انسانی غرور اور دنیا کی بے ثباتی کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو شخص آج اپنے سر پر تاج ہونے کی وجہ سے فخر کر رہا ہے، اسے یہ نہیں معلوم کہ کل اس کی موت پر لوگ نوحہ کریں گے۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی چیزیں عارضی ہیں اور انسان کو اپنی حیثیت پر غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کل کو سب کچھ ختم ہو سکتا ہے۔ میر تقی میر کی شاعری میں اکثر دنیا کی بے ثباتی اور انسانی جذبات کی گہرائی کو بیان کیا جاتا ہے۔

Themes

  • غرور
  • دنیا کی بے ثباتی

Literary Devices

  • metaphor: تاج واری کا غرور دنیاوی حیثیت کی عارضیت کو ظاہر کرتا ہے
  • imagery: نوحا گری کا شور موت اور غم کی تصویر کشی کرتا ہے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
غرور تکبر خود پسندی ghuroor
تاج واری بادشاہی بادشاہی کی حالت taaj waari
نوحا گری ماتم غم noha gari

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free