🇵🇰

ہستی اک حباب کی سی ہے by میر تقی میر — Analysis & Translation

Original Poem

ہستی اک حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے

Translation (Urdu)

زندگی ایک بلبلے جیسی ہے یہ دکھاوا ایک دھوکے جیسا ہے

About the Poet

میر تقی میر (18th century)

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جو 18ویں صدی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور زندگی کی ناپائیداری کا گہرا اثر ہے۔

Historical Context

Literary Form
غزل
When Written
18th century
Background
یہ شعر میر تقی میر کی فلسفیانہ سوچ اور زندگی کی ناپائیداری کے احساس کو بیان کرتا ہے۔

Sources: https://www.aruuz.com/selection?id=YTBW1TUKE-1MINMXWP4C, https://wikisource.org/wiki/ہستی_اپنی_حباب_کی_سی_ہے, https://urdunotes.com/lesson/ہستی-اپنی-حباب-کی-سی-ہے-کی-تشریح/

Detailed Explanation

یہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جس میں انہوں نے انسانی زندگی کی ناپائیداری اور دھوکہ دہی کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں زندگی کو ایک بلبلے سے تشبیہ دی گئی ہے جو بہت جلد ختم ہو جاتا ہے، یعنی زندگی بھی عارضی اور ناپائیدار ہے۔ دوسرے مصرعے میں دنیا کی چمک دمک کو سراب سے تشبیہ دی گئی ہے، جو حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ ایک دھوکہ ہوتا ہے۔ میر تقی میر نے اس شعر کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو نہایت سادہ اور گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔

Themes

  • زندگی کی ناپائیداری
  • دھوکہ دہی

Literary Devices

  • تشبیہ: زندگی کو حباب سے تشبیہ دی گئی ہے
  • تشبیہ: نمائش کو سراب سے تشبیہ دی گئی ہے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
ہستی زندگی زندگی hasti
حباب بلبلہ پانی کا بلبلہ جو جلدی پھٹ جاتا ہے habaab
نمائش دکھاوا چمک دمک یا دکھاوے کی چیز numaish
سراب دھوکہ نظر کا دھوکہ saraab

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free