Original Poem
ہستی اک حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے
Translation (Urdu)
زندگی ایک بلبلے جیسی ہے
یہ دکھاوا ایک دھوکے جیسا ہے
About the Poet
میر تقی میر (18th century)
میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جو 18ویں صدی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور زندگی کی ناپائیداری کا گہرا اثر ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- غزل
- When Written
- 18th century
- Background
- یہ شعر میر تقی میر کی فلسفیانہ سوچ اور زندگی کی ناپائیداری کے احساس کو بیان کرتا ہے۔
Sources: https://www.aruuz.com/selection?id=YTBW1TUKE-1MINMXWP4C, https://wikisource.org/wiki/ہستی_اپنی_حباب_کی_سی_ہے, https://urdunotes.com/lesson/ہستی-اپنی-حباب-کی-سی-ہے-کی-تشریح/
Detailed Explanation
یہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جس میں انہوں نے انسانی زندگی کی ناپائیداری اور دھوکہ دہی کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں زندگی کو ایک بلبلے سے تشبیہ دی گئی ہے جو بہت جلد ختم ہو جاتا ہے، یعنی زندگی بھی عارضی اور ناپائیدار ہے۔ دوسرے مصرعے میں دنیا کی چمک دمک کو سراب سے تشبیہ دی گئی ہے، جو حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ ایک دھوکہ ہوتا ہے۔ میر تقی میر نے اس شعر کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو نہایت سادہ اور گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| ہستی | زندگی | زندگی | hasti |
| حباب | بلبلہ | پانی کا بلبلہ جو جلدی پھٹ جاتا ہے | habaab |
| نمائش | دکھاوا | چمک دمک یا دکھاوے کی چیز | numaish |
| سراب | دھوکہ | نظر کا دھوکہ | saraab |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free