Original Poem
کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی فھوم ہے پھر بہار انے کی
Translation (Urdu)
ذرا میرے دیوانے کی فکر کرو
بہار کے آنے کا شور ہے
About the Poet
میر تقی میر (18th century)
میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق اٹھارویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں عشق، غم اور انسانی جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ میر کی شاعری کو اردو ادب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- غزل
- When Written
- 18th century
- Background
- یہ غزل میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جس میں وہ بہار کے آنے کی خوشی اور دیوانگی کی فکر کا اظہار کر رہے ہیں۔
Sources: https://wikisource.org/wiki/کچھ_کرو_فکر_مجھ_دیوانے_کی, https://www.rekhta.org/ghazals/kuchh-karo-fikr-mujh-diivaane-kii-mir-taqi-mir-ghazals?lang=ur
Detailed Explanation
یہ شعر میر تقی میر کی غزل کا حصہ ہے جس میں شاعر اپنے دیوانگی کی فکر کرنے کی درخواست کر رہا ہے کیونکہ بہار کا موسم آنے والا ہے۔ بہار کا موسم خوشیوں کا پیغام لاتا ہے اور شاعر کو اس بات کی فکر ہے کہ اس کی دیوانگی کہیں اس خوشی کے موسم میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ میر کی شاعری میں اکثر عشق اور دیوانگی کا ذکر ملتا ہے اور یہ شعر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شاعر کی دیوانگی کی فکر اور بہار کے آنے کی خوشی کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے جو انسانی جذبات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| کچھ | تھوڑا | کسی حد تک | kuchh |
| فکر | پریشانی | خیال | fikr |
| دیوانے | پاگل | عاشق | diwaane |
| فھوم | سمجھ | جاننا | fahoom |
| بہار | موسمِ بہار | پھولوں کا موسم | bahaar |
| انے | آنے | پہنچنے | aane |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free