🇵🇰

تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا by احمد ندیم قاسمی — Analysis & Translation

Original Poem

تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا

Translation (Urdu)

تمہارا در چھوڑ کر میں کہاں جا سکتا ہوں؟ گھر میں قید ہو جاؤں گا یا صحرا میں بکھر جاؤں گا۔

About the Poet

احمد ندیم قاسمی (20th century)

احمد ندیم قاسمی ایک معروف اردو شاعر، افسانہ نگار اور صحافی تھے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت اور سماجی مسائل کا گہرا عکس ملتا ہے۔

Historical Context

Literary Form
غزل
When Written
20th century
Background
یہ غزل انسانی جذبات اور محبت کی گہرائی کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے محبوب کے در کو چھوڑنے کے بعد کی حالت کو بیان کرتا ہے۔

Sources: https://www.rekhta.org/ghazals/kaun-kahtaa-hai-ki-maut-aaii-to-mar-jaauungaa-ahmad-nadeem-qasmi-ghazals?lang=ur, https://urdunotes.com/lesson/kon-kehta-hai-ki-maut-aayegi-to-mar-jaunga-tashreeh-سبق-نمبر-28-غزل-کون-کہتا-ہے-کہ-مو/, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

یہ اشعار احمد ندیم قاسمی کی غزل سے ہیں، جہاں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر وہ اس کے در کو چھوڑ دے تو اس کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔ شاعر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ محبوب کے بغیر اس کی زندگی بے معنی ہو جائے گی۔ وہ یا تو اپنے گھر میں قید ہو جائے گا یا صحرا میں بکھر جائے گا۔ یہ اشعار محبت کی گہرائی اور محبوب کے بغیر زندگی کی بے معنویت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کی زبان میں سادگی اور گہرائی ہے جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔

Themes

  • محبت
  • تنہائی
  • بے معنویت

Literary Devices

  • تشبیہ: صحرا میں بکھر جاؤں گا
  • استعارہ: در کو چھوڑنا

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
در دروازہ محبوب کا دروازہ dar
صحرا ریگستان خالی جگہ، ویران جگہ sahraa
بکھر پھیل جانا ٹوٹ جانا، منتشر ہونا bikhar
گھر رہائش کی جگہ اپنی جگہ، اپنی دنیا ghar
چھوڑ ترک کرنا پیچھے چھوڑ دینا chhoṛ

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free