🇵🇰

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہو ندیم by احمد ندیم قاسمی — Analysis & Translation

Original Poem

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہو ندیم بجھ تو جاو گا مگر صبح تو کر جاو گا

Translation (Urdu)

زندگی کو موم بتی کی طرح جلاتا ہوں ندیم میں بجھ جاؤں گا لیکن صبح کر دوں گا

About the Poet

احمد ندیم قاسمی (20th century)

احمد ندیم قاسمی ایک معروف پاکستانی شاعر، افسانہ نگار، اور صحافی تھے۔ ان کی پیدائش 20 نومبر 1916 کو ہوئی اور وہ 10 جولائی 2006 کو وفات پا گئے۔ ان کا کام اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

Historical Context

Literary Form
غزل
When Written
20th century
Background
یہ شعر احمد ندیم قاسمی کی زندگی کے فلسفے اور ان کی شاعری کے موضوعات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ زندگی کو ایک شمع کی مانند دیکھتے ہیں جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔

Sources: https://www.urduvoa.com/a/death-anniversary-of-ahmad-nadeem-qasmi-10jul2017/3935485.html, https://ibcurdu.com/news/4705/, https://ilmu.pk/احمد-ندیم-قاسمی-کی-غزل-کون-کہتا-ہے-کہ-مو/

Detailed Explanation

احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر زندگی کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنی زندگی کو ایک شمع کی مانند دیکھتے ہیں جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ وہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اگرچہ وہ خود فنا ہو جائیں گے، لیکن ان کی کوششیں اور محنت دوسروں کے لیے روشنی کا سبب بنیں گی۔ یہ شعر زندگی کی قربانی، خدمت، اور دوسروں کی بھلائی کے لیے جینے کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد دوسروں کی زندگیوں میں روشنی لانا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں خود کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

Themes

  • زندگی کی قربانی
  • روشنی اور امید

Literary Devices

  • تشبیہ: زندگی کو شمع کی مانند قرار دینا
  • استعارہ: شمع کا استعارہ زندگی کے لیے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
زندگی حیات جینے کا عمل zindagii
شمع موم بتی روشنی دینے والی چیز shamaa
مانند جیسا جیسا maanind
ندیم دوست دوست nadeem
بجھ ختم ہونا ختم ہونا bujh
صبح صبح کا وقت دن کی شروعات subah
کر انجام دینا انجام دینا kar

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free