Original Poem
حضور حق خوش آں راہی کہ سمانے نکیجود دل و دین دیار کم پڑیود یہ آہے سوزنکشن سینے کنش ذلیک آہتیش عظم صد مصلحہ مرزا!
Translation (Urdu)
خدا کے سامنے
خوش قسمت ہے وہ مسافر جو دنیا کی قید سے آزاد ہے
اس کا دل اور ایمان دنیا کے بوجھ سے آزاد ہیں
یہ دل کی تڑپ ہے جو سینے میں چھپی ہوئی ہے
یہ ایک بڑی آگ ہے جو مرزا کی اصلاح کے لئے ہے
Historical Context
- Literary Form
- Unknown
- When Written
- Unknown
- Background
- اس نظم کے تاریخی یا ذاتی پس منظر کی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
Sources: https://www.rekhta.org/Poets/mirza-ghalib/t20?lang=ur, https://www.facebook.com/permalink.php/?story_fbid=944016246438950&id=404557347051512
Detailed Explanation
یہ نظم ایک روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے جہاں شاعر خدا کے حضور میں ہونے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ خوش نصیب ہے وہ شخص جو دنیاوی قید و بند سے آزاد ہو چکا ہے۔ اس کا دل اور ایمان دنیاوی بوجھ سے آزاد ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ دنیا کی محبتوں اور خواہشات سے بے نیاز ہو چکا ہے۔
نظم میں دل کی تڑپ کو سینے میں چھپی ہوئی ایک آگ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ آگ ایک عظیم مقصد کے لئے ہے، جو مرزا کی اصلاح کے لئے ہے۔ یہاں شاعر نے دل کی تڑپ کو ایک روحانی تجربے کے طور پر پیش کیا ہے، جو انسان کو خدا کے قریب لے جاتا ہے۔
نظم کا جذباتی سفر ایک روحانی بیداری کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں انسان دنیا کی محبتوں سے آزاد ہو کر خدا کی محبت میں گم ہو جاتا ہے۔ نظم کا لہجہ روحانی اور متفکر ہے، جو قاری کو اپنی روحانی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
نظم میں استعارہ اور تشبیہات کا خوبصورت استعمال کیا گیا ہے۔ دل کی تڑپ کو آگ کے طور پر بیان کرنا ایک طاقتور استعارہ ہے جو قاری کو اس کی شدت کا احساس دلاتا ہے۔ اس کے علاوہ، نظم میں دنیاوی قید و بند سے آزادی کی خواہش کو بھی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
یہ نظم ایک روحانی تجربے کی عکاسی کرتی ہے جو انسان کو خدا کے قریب لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ نظم قاری کو اپنی روحانی حالت پر غور کرنے اور دنیاوی محبتوں سے آزاد ہونے کی دعوت دیتی ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| حضور | خدا کی موجودگی | خدا کے سامنے ہونا | huzoor |
| حق | خدا | سچائی | haq |
| خوش | خوشحال | خوشی | khush |
| آں | وہ | وہی | aan |
| راہی | مسافر | سفر کرنے والا | raahi |
| کہ | جو | جو کہ | keh |
| سمانے | دنیا | دنیاوی | samaane |
| نکیجود | آزاد | قید سے آزاد | nakijood |
| دل | قلب | دل | dil |
| و | اور | اور | va |
| دین | ایمان | ایمان | deen |
| دیار | علاقہ | ملک | diyaar |
| کم | قلیل | کم | kam |
| پڑیود | آزاد | آزاد کیا گیا | pariyood |
| یہ | یہی | یہ | yeh |
| آہے | آہ | آہ و زاری | aahe |
| سوزنکشن | تڑپ | درد | soznakshan |
| سینے | سینہ | چھاتی | seene |
| کنش | چھپی | چھپائی گئی | kunsh |
| ذلیک | یہی | یہ | zalik |
| آہتیش | آگ | شعلہ | aahteesh |
| عظم | عظیم | بڑا | azm |
| صد | سو | سو بار | sad |
| مصلحہ | اصلاح | بہتری | musliha |
| مرزا | ایک نام | مرزا | mirza |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free