🇵🇰

اور لے اے بازار سے اگر ٹوٹ گیا by Mirza Ghalib — Analysis & Translation

Original Poem

اور لے اے بازار سے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

Translation (Urdu)

بازار سے نیا لے آ اگر یہ ٹوٹ جائے میرے مٹی کے پیالے کو جم کے ساغر سے بہتر سمجھتا ہوں

About the Poet

Mirza Ghalib (19th Century)

مرزا غالب اردو اور فارسی کے مشہور شاعر تھے، جنہوں نے 19ویں صدی میں اپنی شاعری کے ذریعے ادب میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات اور انسانی تجربات کی گہرائی نظر آتی ہے۔

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
19th Century
Background
یہ شعر غالب کی فلسفیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ مادی چیزوں کی ناپائیداری اور سادگی کی خوبصورتی پر روشنی ڈالتے ہیں۔

Sources: https://ur.wikipedia.org/wiki/سنگ_جواہر, https://www.rekhta.org/couplets/aur-baazaar-se-le-aae-agar-tuut-gayaa-mirza-ghalib-couplets?lang=ur

Detailed Explanation

اس شعر میں مرزا غالب نے مادی چیزوں کی ناپائیداری اور سادگی کی خوبصورتی کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میرا جام ٹوٹ جائے تو میں بازار سے نیا لے آؤں گا، لیکن میرے لئے مٹی کا پیالہ زیادہ قیمتی ہے کیونکہ یہ سادگی اور عاجزی کی علامت ہے۔ غالب یہاں مادی چیزوں کی عارضی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں اور سادگی کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں مادی چیزوں کی بجائے سادگی اور عاجزی کو ترجیح دینی چاہئے۔

Themes

  • سادگی کی خوبصورتی
  • مادی چیزوں کی ناپائیداری

Literary Devices

  • تشبیہ: ساغر جم اور جام سفال کا موازنہ
  • استعارہ: مٹی کے پیالے کو سادگی کی علامت کے طور پر پیش کرنا

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
ساغر پیالہ شراب کا گلاس saaghar
جم جمشید ایرانی بادشاہ جمشید Jamshaid
جام پیالہ شراب کا گلاس jaam
سفال مٹی مٹی کا بنا ہوا sifaal

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free