Original Poem
اور لے اے بازار سے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
Translation (Urdu)
بازار سے نیا لے آ اگر یہ ٹوٹ جائے
میرے مٹی کے پیالے کو جم کے ساغر سے بہتر سمجھتا ہوں
About the Poet
Mirza Ghalib (19th Century)
مرزا غالب اردو اور فارسی کے مشہور شاعر تھے، جنہوں نے 19ویں صدی میں اپنی شاعری کے ذریعے ادب میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات اور انسانی تجربات کی گہرائی نظر آتی ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- 19th Century
- Background
- یہ شعر غالب کی فلسفیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ مادی چیزوں کی ناپائیداری اور سادگی کی خوبصورتی پر روشنی ڈالتے ہیں۔
Sources: https://ur.wikipedia.org/wiki/سنگ_جواہر, https://www.rekhta.org/couplets/aur-baazaar-se-le-aae-agar-tuut-gayaa-mirza-ghalib-couplets?lang=ur
Detailed Explanation
اس شعر میں مرزا غالب نے مادی چیزوں کی ناپائیداری اور سادگی کی خوبصورتی کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میرا جام ٹوٹ جائے تو میں بازار سے نیا لے آؤں گا، لیکن میرے لئے مٹی کا پیالہ زیادہ قیمتی ہے کیونکہ یہ سادگی اور عاجزی کی علامت ہے۔ غالب یہاں مادی چیزوں کی عارضی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں اور سادگی کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں مادی چیزوں کی بجائے سادگی اور عاجزی کو ترجیح دینی چاہئے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| ساغر | پیالہ | شراب کا گلاس | saaghar |
| جم | جمشید | ایرانی بادشاہ جمشید | Jamshaid |
| جام | پیالہ | شراب کا گلاس | jaam |
| سفال | مٹی | مٹی کا بنا ہوا | sifaal |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free