🇵🇰

زندگی ہے یا کوئ طوفان by Khwaja Meer Dard — Analysis & Translation

Original Poem

زندگی ہے یا کوئ طوفان ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

Translation (Urdu)

یہ زندگی ہے یا کوئی بڑا مسئلہ ہم تو اس زندگی کے دباؤ میں ختم ہو چکے ہیں

About the Poet

Khwaja Meer Dard (18th century)

خواجہ میر درد اردو کے مشہور شاعر تھے جو 18ویں صدی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں تصوف اور روحانیت کا گہرا اثر ہے۔ وہ اردو کے کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
18th century
Background
یہ شعر زندگی کی مشکلات اور مصائب کی عکاسی کرتا ہے، جو انسان کو جینے کی جدوجہد میں مبتلا رکھتے ہیں۔

Sources: https://www.rekhta.org/couplets/zindagii-hai-yaa-koii-tuufaan-hai-khwaja-meer-dard-couplets-3?lang=ur, https://www.rekhta.org/shayari-image/zindagii-hai-yaa-koii-tuufaan-hai-couplets-khwaja-meer-dard?lang=ur, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

یہ شعر خواجہ میر درد کا ہے جو زندگی کی مشکلات اور مصائب کو بیان کرتا ہے۔ شاعر زندگی کو ایک طوفان کی مانند دیکھتا ہے جو انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس زندگی کی مشکلات اور پریشانیوں کی وجہ سے مر چکے ہیں۔ یہ شعر زندگی کی ناپائیداری اور اس کے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر نے زندگی کی مشکلات کو طوفان سے تشبیہ دی ہے، جو انسان کو اپنی جدوجہد میں مبتلا رکھتا ہے۔ یہ شعر انسان کی زندگی کی ناپائیداری اور اس کے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے، جو ہر انسان کو درپیش ہوتے ہیں۔

Themes

  • زندگی کی ناپائیداری
  • مشکلات اور مصائب

Literary Devices

  • تشبیہ: زندگی کو طوفان سے تشبیہ دی گئی ہے
  • استعارہ: زندگی کی مشکلات کو طوفان کے طور پر پیش کیا گیا ہے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
طوفان آندھی، بگولہ بہت تیز ہوا یا بگولہ toofaan
جینے زندگی گزارنے زندگی گزارنے کا عمل jeene
مر فوت ہونا زندگی کا ختم ہونا mar

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free