Original Poem
اک روشن دماغ تھا نا رہا شہر میں اک چراغ تھا نا رہا
Translation (Urdu)
ایک ذہین شخص تھا جو اب موجود نہیں ہے
شہر میں ایک چراغ تھا جو اب موجود نہیں ہے
About the Poet
Altaf Hussain Hali (19th Century)
الطاف حسین حالی اردو کے مشہور شاعر اور نقاد تھے۔ ان کا تعلق 19ویں صدی سے تھا اور وہ جدید اردو شاعری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حالی نے اردو ادب میں اصلاحی تحریک کو فروغ دیا۔
Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- 19th Century
- Background
- یہ شعر کسی عظیم شخصیت کے انتقال پر کہی گئی ہے، جہاں شاعر نے اس شخصیت کو ایک روشن چراغ سے تشبیہ دی ہے جو اب بجھ چکا ہے۔
Sources: https://www.rekhta.org/couplets/ek-raushan-dimaag-thaa-na-rahaa-altaf-hussain-hali-couplets?lang=ur, https://thebalochistanpost.com/2019/02/ارمان-لونی،-ایک-روشن-دماغ-نہ-رہا-لطیف-ب/
Detailed Explanation
یہ شعر الطاف حسین حالی کا ہے جس میں شاعر نے کسی عظیم اور ذہین شخصیت کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شاعر نے اس شخصیت کو ایک روشن دماغ اور شہر کے چراغ سے تشبیہ دی ہے، جو اب بجھ چکا ہے۔ یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس شخصیت کی موجودگی سے شہر میں روشنی اور علم کی فراوانی تھی، اور اب اس کے جانے سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ شاعر نے انتہائی سادگی اور گہرائی سے اس نقصان کا ذکر کیا ہے، جو کسی اہم شخصیت کے جانے سے معاشرے کو ہوتا ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| روشن | چمکدار | جو روشنی دے | roshaan |
| دماغ | ذہن | سوچنے کی صلاحیت | dimaag |
| چراغ | لامپ | روشنی دینے والا آلہ | chiraaagh |
| شہر | قصبہ | آبادی والا علاقہ | shahar |
| نا رہا | ختم ہو گیا | اب موجود نہیں | naa raha |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free