🇵🇰

اک روشن دماغ تھا نا رہا by Altaf Hussain Hali — Analysis & Translation

Original Poem

اک روشن دماغ تھا نا رہا شہر میں اک چراغ تھا نا رہا

Translation (Urdu)

ایک ذہین شخص تھا جو اب موجود نہیں ہے شہر میں ایک چراغ تھا جو اب موجود نہیں ہے

About the Poet

Altaf Hussain Hali (19th Century)

الطاف حسین حالی اردو کے مشہور شاعر اور نقاد تھے۔ ان کا تعلق 19ویں صدی سے تھا اور وہ جدید اردو شاعری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حالی نے اردو ادب میں اصلاحی تحریک کو فروغ دیا۔

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
19th Century
Background
یہ شعر کسی عظیم شخصیت کے انتقال پر کہی گئی ہے، جہاں شاعر نے اس شخصیت کو ایک روشن چراغ سے تشبیہ دی ہے جو اب بجھ چکا ہے۔

Sources: https://www.rekhta.org/couplets/ek-raushan-dimaag-thaa-na-rahaa-altaf-hussain-hali-couplets?lang=ur, https://thebalochistanpost.com/2019/02/ارمان-لونی،-ایک-روشن-دماغ-نہ-رہا-لطیف-ب/

Detailed Explanation

یہ شعر الطاف حسین حالی کا ہے جس میں شاعر نے کسی عظیم اور ذہین شخصیت کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شاعر نے اس شخصیت کو ایک روشن دماغ اور شہر کے چراغ سے تشبیہ دی ہے، جو اب بجھ چکا ہے۔ یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس شخصیت کی موجودگی سے شہر میں روشنی اور علم کی فراوانی تھی، اور اب اس کے جانے سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ شاعر نے انتہائی سادگی اور گہرائی سے اس نقصان کا ذکر کیا ہے، جو کسی اہم شخصیت کے جانے سے معاشرے کو ہوتا ہے۔

Themes

  • Loss
  • Memory
  • Tribute

Literary Devices

  • Metaphor: 'روشن دماغ' اور 'چراغ' کو شخصیت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
  • Imagery: شہر میں چراغ کا بجھنا ایک بصری تصویر پیش کرتا ہے۔

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
روشن چمکدار جو روشنی دے roshaan
دماغ ذہن سوچنے کی صلاحیت dimaag
چراغ لامپ روشنی دینے والا آلہ chiraaagh
شہر قصبہ آبادی والا علاقہ shahar
نا رہا ختم ہو گیا اب موجود نہیں naa raha

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free