Original Poem
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہے
Translation (Urdu)
اگر ایک آشیانہ کھو گیا تو کوئی پریشانی کی بات نہیں
رونے اور فریاد کرنے کے لیے اور جگہیں بھی ہیں
About the Poet
Allama Iqbal (20th Century)
علامہ اقبال بیسویں صدی کے معروف شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیداری اور خودی کا پیغام دیا۔ اقبال کی شاعری میں اسلامی فلسفہ اور خودی کا تصور نمایاں ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- غزل
- When Written
- 20th Century
- Background
- یہ شعر علامہ اقبال کی غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے، جو مسلمانوں کو امید اور بلند حوصلگی کا پیغام دیتی ہے۔
Sources: https://www.rekhta.org/ghazals/sitaaron-se-aage-jahaan-aur-bhii-hain-allama-iqbal-ghazals-1?lang=ur, https://knowledgesharingplatform.com/allama-iqbal-poem-beyond-the-stars/
Detailed Explanation
یہ شعر علامہ اقبال کی غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے۔ اس میں شاعر کہتا ہے کہ اگر ایک آشیانہ یا ٹھکانہ کھو بھی جائے تو کوئی غم نہیں کیونکہ دنیا میں اور بھی مواقع اور مقامات ہیں جہاں انسان اپنی کوششیں جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ شعر انسان کو مایوسی سے بچنے اور امید کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ اقبال کی شاعری میں خودی اور بلند حوصلگی کا پیغام ملتا ہے، جو انسان کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس شعر میں 'آہ و فغاں' کے مقامات کا ذکر ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی میں مشکلات کے باوجود انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| نشیمن | آشیانہ | پرندوں کا گھر یا انسان کا ٹھکانہ | nasheman |
| غم | فکر | پریشانی یا دکھ | gham |
| مقامات | جگہیں | مختلف جگہیں | maqaamaat |
| آہ و فغاں | رونا دھونا | غم و اندوہ کا اظہار | aah o fighaan |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free