🇵🇰

قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر by Allama Iqbal — Analysis & Translation

Original Poem

قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے

Translation (Urdu)

خوشبو اور رنگین دنیا پر مطمئن نہ ہو باغات اور بھی ہیں، آشیانے اور بھی ہیں

About the Poet

Allama Iqbal (20th Century)

علامہ اقبال برصغیر کے مشہور شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی شاعری میں خودی، عشق، اور مسلمانوں کی بیداری کے موضوعات شامل ہیں۔

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
20th Century
Background
یہ شعر علامہ اقبال کی فلسفیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں وہ انسان کو قناعت سے بچنے اور مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

Sources: https://www.bolnewsurdu.com/poetry/Story/1763/

Detailed Explanation

یہ شعر علامہ اقبال کی شاعری کا ایک حصہ ہے جس میں وہ انسان کو قناعت پسندی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہے کہ انسان کو موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزید ترقی اور کامیابی کی جستجو کرنی چاہیے۔ 'عالم رنگ و بو' سے مراد یہ دنیا ہے جو اپنی رنگینیوں اور خوشبوؤں کے ساتھ دلکش ہے، لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اس پر قناعت نہ کرو کیونکہ زندگی میں اور بھی مواقع اور امکانات موجود ہیں۔ 'چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے' کا مطلب ہے کہ دنیا میں اور بھی باغات اور آشیانے ہیں، یعنی اور بھی مواقع ہیں جنہیں تلاش کرنا چاہیے۔ یہ شعر انسان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور ان کا بھرپور استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

Themes

  • قناعت
  • ترقی
  • امکانات

Literary Devices

  • metaphor: 'عالم رنگ و بو' کو دنیا کی رنگینیاں اور خوشبوؤں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے
  • imagery: 'چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے' میں باغات اور آشیانوں کی تصویر کشی کی گئی ہے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
قناعت اطمینان موجودہ حالت پر راضی ہونا qana'at
عالم دنیا دنیا کی حالت aalam
رنگ و بو خوشبو اور رنگ خوشبو اور رنگ کی دنیا rang o boo
چمن باغ باغ chaman
آشیاں گھونسلہ گھونسلہ aashiyaan

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free