Original Poem
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے
Translation (Urdu)
خوشبو اور رنگین دنیا پر مطمئن نہ ہو
باغات اور بھی ہیں، آشیانے اور بھی ہیں
About the Poet
Allama Iqbal (20th Century)
علامہ اقبال برصغیر کے مشہور شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی شاعری میں خودی، عشق، اور مسلمانوں کی بیداری کے موضوعات شامل ہیں۔
Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- 20th Century
- Background
- یہ شعر علامہ اقبال کی فلسفیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں وہ انسان کو قناعت سے بچنے اور مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
Sources: https://www.bolnewsurdu.com/poetry/Story/1763/
Detailed Explanation
یہ شعر علامہ اقبال کی شاعری کا ایک حصہ ہے جس میں وہ انسان کو قناعت پسندی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہے کہ انسان کو موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزید ترقی اور کامیابی کی جستجو کرنی چاہیے۔ 'عالم رنگ و بو' سے مراد یہ دنیا ہے جو اپنی رنگینیوں اور خوشبوؤں کے ساتھ دلکش ہے، لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اس پر قناعت نہ کرو کیونکہ زندگی میں اور بھی مواقع اور امکانات موجود ہیں۔ 'چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے' کا مطلب ہے کہ دنیا میں اور بھی باغات اور آشیانے ہیں، یعنی اور بھی مواقع ہیں جنہیں تلاش کرنا چاہیے۔ یہ شعر انسان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور ان کا بھرپور استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| قناعت | اطمینان | موجودہ حالت پر راضی ہونا | qana'at |
| عالم | دنیا | دنیا کی حالت | aalam |
| رنگ و بو | خوشبو اور رنگ | خوشبو اور رنگ کی دنیا | rang o boo |
| چمن | باغ | باغ | chaman |
| آشیاں | گھونسلہ | گھونسلہ | aashiyaan |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free