Original Poem
تہی زندگی اے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہے
Translation (Urdu)
یہ زندگی خالی نہیں ہے، یہ ہوائیں
یہاں بہت سے قافلے اور بھی ہیں
About the Poet
Allama Iqbal (20th century)
علامہ اقبال ایک مشہور شاعر اور فلسفی تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا خواب دیکھا۔ ان کی شاعری میں فلسفہ خودی اور مسلمانوں کی بیداری کا پیغام ملتا ہے۔
Read more on Wikipedia →Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- Early 20th century
- Background
- This poem is part of Allama Iqbal's ghazal 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں', which reflects on the limitless possibilities and the need for continuous striving beyond the apparent limits.
Sources: https://www.rekhta.org/ghazals/sitaaron-se-aage-jahaan-aur-bhii-hain-allama-iqbal-ghazals-1?lang=ur, https://pakistanify.com/ghazal/3968, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry
Detailed Explanation
یہ شعر علامہ اقبال کی مشہور غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے۔ اس شعر میں شاعر یہ بتا رہے ہیں کہ زندگی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے، وہی سب کچھ نہیں ہے۔ اس دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہے جو ہمیں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شاعر کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ نئی راہوں کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ یہ شعر ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ ہم زندگی میں کامیاب ہو سکیں۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| تہی | خالی | خالی، جس میں کچھ نہ ہو | tahi |
| فضائیں | ہوائیں | ہوا، آسمان | fazaaein |
| کارواں | قافلے | قافلہ، مسافروں کا گروہ | kaarwaan |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free