Original Poem
ستاروں کے اگے جہاں اور بھی ہے ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہے
Translation (Urdu)
ستاروں کے آگے بھی دنیا ہے
ابھی محبت کی آزمائشیں باقی ہیں
About the Poet
Allama Iqbal (20th Century)
علامہ اقبال برصغیر کے مشہور شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا شمار اردو اور فارسی کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- نظم
- When Written
- 20th Century
- Background
- یہ شعر علامہ اقبال کی نظم 'بال جبریل' کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے مسلمانوں کو نئی بلندیوں کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ یہ شعر انسان کی ترقی کی لا محدود صلاحیتوں اور عشق کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
Sources: https://www.facebook.com/AakhriPaigham/videos/sitaron-se-agay-jahan-aur-bhi-hain-allama-iqbal/1549228183434041/, https://www.facebook.com/AmericanoIS/posts/ستاروں-سے-آگے-جہاں-اور-بھی-ہیںابھی-عشق-کے-امتحاں-اور-بھی-ہیںتہی-زندگی-سے-نہیں-یہ/1069072501580883/
Detailed Explanation
یہ شعر علامہ اقبال کی نظم 'بال جبریل' کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے انسان کی ترقی کی لا محدود صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں کہا گیا ہے کہ ستاروں سے آگے بھی دنیا موجود ہے، یعنی انسان کی ترقی کی کوئی حد نہیں ہے اور وہ ہمیشہ نئی بلندیوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں عشق کی آزمائشوں کا ذکر ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ عشق کی راہ میں مشکلات اور امتحان ہمیشہ رہتے ہیں، اور ان کا سامنا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شعر انسان کو تحریک دیتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور عشق کی راہ میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| ستاروں | فلک کے اجسام | آسمان پر چمکنے والے اجسام | sitaaron |
| جہاں | دنیا | دنیا | jahaan |
| عشق | محبت | محبت | ishq |
| امتحاں | آزمائش | کسی چیز کی جانچ یا پرکھ | imtihaan |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free